سہیل احمد خان

18 جولائی 1947 کو ہوشیار پور کے 'مہمند' گھرانےمیں پیدا ہوئے تھے۔سہیل احمد خاں ادب کے مطالعے کا عمدہ ذوق رکھنے والےاردو کے گنتی کے پروفیسروں میں سے تھے ۔آپ صرف خود کے لیے شاعری کرنے لگے۔سجاد باقر رضوی کے شاگرد تھے جن کے اُستاد محمد باقر رضوی تھے۔ سجاد باقر رضوی صاحب نے ہی لاہور میں اُن سے پہلا تنقیدی مضمون لکھوایا جو 'میرا جی' کے حوالے سے تھا اور 'حلقہ اربابِ ذوق' میں پڑھا گیا۔حلقہ اربابِ ذوق کے سبب انہیں بہت سے ادیبوں کی مصاحبت ملی۔۔۔۔۔ انتظار حسین، ناصر کاظمی، شہرت بخاری، انجم رومانی، اعجاز بٹالوی، منیر نیازی، قیوم نظر، افتخار جالب، غلام عباس اور ن م راشد سے ادبی ملاقاتیں اُن کے کریڈٹ پر ہیں۔آپ مطالعہ کے بےحد شائق تھے۔ اُن سے پڑھنے والے شاگردوں کی نشست بھی بھرپور ہوا کرتی تھی۔ آپ کے چند پسندیدہ شاگرد تھے جو واقعی سر کی نمائندگی کے قابل تھے۔1969 میں پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج سے ایم اے اردو کِیا اور وہیں لیکچرار متعین ہو گئے۔1979میں ’’اردو داستان کا علامتی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اورینٹل میں انہوں نے پینتیس برس کا طویل عرصہ گزارا،پانچ سال صدرِ شعبہ اور تین سال پرنسپل رہے۔اسی عرصہ میں جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی میں بھی دو سال کے لیے تدریسی خدمات سر انجام دینے کا موقع مِلا۔ سہیل احمد خان 2003 میں اورینٹل سے قبل از وقت مستعفی ہو کر علم و ادب کی دوسری قریبی بہترین درسگاہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی آ گئے۔یہاں بھی وہ صدرِ شعبہ رہے۔یہیں سے 13 مارچ 2009 کو یہ راہی مُلکِ عدم سُدھار گیا۔سہیل احمد خان صاحب نے نظم و نثر میں اپنا جدا رنگ اپنایا بلکہ نثر میں تو قدم جمائے، وہ غیر جانبدار رائے قائم کرتے اور اِس کا آزادانہ اظہار بھی کرتے۔اُن کی تصانیف کے نام جو ذہن میں ہیں درج کرتا ہوں: سرچشمے(1979) طرزیں (1982) داستانوں کی علامتی کائنات(1987) طرفیں (1994) تعبیریں (2000) سیربین(2000ء) مرتبہ کتب:    داستان در داستان، مقالاتِ حلقہ اربابِ ذوق،محراب مجلّےکے سات شمارے، افسانوی ادب(نصابی کتاب)۔اورینٹل کے رسالے 'لفظ' کے مدیرِ اعلٰی رہے، مشہور رسالہ 'سویرا' کے چار شمارے ان کی ادارت میں شائع ہوئے، جی سی کا 'تحقیق نامہ' مجلّہ اُن کی زیرِ نگرانی نکلتا رہا۔